نظم: بلاعنوان

ایک نظم جو میں نے ایک سال پہلے لکھی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں تک پہنچانے میں دیر ہو گئی۔ 
میں عموماََ اپنی نظم کے ساتھ دیباچہ بھی لکھتی ہوں، البتہ اس نظم کا دیباچہ میں بہت سوچ بچار کے بعد بھی نہ لکھ پائی،اس کے دو پہلو ہیں، دیباچے کے ذریعہ لکھائی کا جو پس منظر قارئین تک پہنچتا تھا، وہ نہیں ہو پائے گا، لیکن قارئین اس کے نتیجے میں اس نظم کے مختلف پسِ مناظرمیں مختلف معنی اخذ کر سکتے ہیں سو آپ نے اس نظم سے کیا اخذ کیا، مجھے ضرور بتائیے گا۔
آخری بات، نظم لکھنے کے بعد میں نے بہت عرصہ اس کے عنوان کو سوچا، لیکن کوئی موزوں عنوان نہ سجھائی دیا، تو بلاعنوان واقعی ’بلاعنوان‘ ہے۔

زندگی تو ایک سی ہے
میری بھی، تیری بھی
رویا تو بھی، رویا میں بھی
ہنسا تو بھی ہنسا میں بھی
پھر فرق کیا کرنا
کہ بشر میں بھی بشر تو بھی
تو کہتا ہے کہ تیرا غم کسی کو نہ لگے
میں کہتا ہوں مجھ سے بڑھ کر تکلیف ہی کس کی ہو
شام تو تیری بھی طویل ہے، میری بھی
اندھیرا تیرا بھی برابر ہے، میرا بھی
اماوس کی بے نور رات تلے
اجلے تاروں کی چھاؤں کون چلے
زندگی کے اختتام پہ کھڑے ہیں اک صدے سے
سو سال بِتا دیے ہم نے نے یہی مالا جھبتے جھبتے
غم تو سب کا برابر ہے
خوشی بھی ایک سے
فرق اگر کوئی ہے تو بس اتنا
کہ کسی کا دِکھ گیا
کسی کا اندیکھا ہی رہا
کسی کا مرثیہ سن لیا گیا
کوئی بے زباں ہی رہا
کسی کی مسکان لبوں پہ آگئی 
کسی کے دل میں ہی شرارہ رہ گیا
فرق اگر کوئی ہے تو بس اتنا
کہ کسی کا غم چاند ہے
کسی کی خوشی سورج
کسی کی خوشی چاند ہے
کسی کا غم سورج
پر زندگی تو ایک سی ہی ہے
کہ چاند کا کیا جلوہ 
جو سورج نہ ہو

Comments

Popular posts from this blog

My unofficial last day at school

Poem: Call from the vessels

Poem: Love